تھوڑی سی محنت، بڑی بچت
بھائیو اور بہنو! ہماری روزمرہ کی مصروفیات میں ایک چھوٹی سی عادت ہماری صحت کی حفاظت کر سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے اور ڈاکٹر بھی اس پر زور دیتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی ترغیب دیتے تھے۔ آج کی سائنس بھی کہتی ہے کہ صرف صاف ہاتھ نمونیا، اسہال، کووڈ-19 اور آنکھوں کے انفیکشن جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں۔ آئیں، اس سادہ سی عادت کو اپنا کر اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے ایک محفوظ ماحول بنائیں۔
ہاتھ دھونے کے فوائد: بیماریاں بھگائیں، صحت لائیں
جراثیم سے نجات: ہاتھ دھونے سے ہمارے ہاتھوں پر چپکے 99% جراثیم صاف ہو جاتے ہیں، جو بیمار ہونے سے بچاتا ہے۔
پیسے بچت: بیماری پر ہونے والے ڈاکٹر کے خرچے، دوائیوں کے بل اور ہسپتال کے اخراجات سے بچ جاتے ہیں۔
خاندان کی حفاظت: گھر کے ایک فرد کے ہاتھ دھونے سے پورے خاندان میں بیماری پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
چستی برقرار رکھیں: بیمار پڑنے سے آپ کا کام، پڑھائی اور روزمرہ کے کام متاثر نہیں ہوتے، آپ چست رہتے ہیں۔
ہاتھ نہ دھونے کے نقصانات: خطرناک اور مہنگے
بیماریوں کی دعوت: گندے ہاتھ کھانے پینے کی چیزوں کو آلودہ کر کے پیٹ میں انفیکشن، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریاں پھیلاتے ہیں۔
پھیلاؤ کا ذریعہ: ایک بیمار شخص کے گندے ہاتھ پورے گھر، دفتر یا اسکول میں بیماری پھیلا سکتے ہیں۔
وقت اور پیسے کا نقصان: بیماری کی وجہ سے کام پر جانا چھوٹنا، دوائیوں پر پیسہ خرچ ہونا، یہ سب گندے ہاتھوں کا ہی نتیجہ ہے۔
عملی مشورے: کب اور کیسے دھوئیں ہاتھ؟
ہاتھ دھونے کے بہترین مواقع (کب دھوئیں؟):
یاد رکھیں، ان 6 موقعوں پر ہاتھ ضرور دھوئیں:
- کھانا کھانے یا پکانے سے پہلے
- کھانا کھانے کے بعد
- بیت الخلاء استعمال کرنے کے بعد
- کھانسی/چھینک آنے یا ناک صاف کرنے کے بعد
- بیمار شخص کی دیکھ بھال کرنے کے بعد
- بچوں کو ٹوائلٹ استعمال کروانے کے بعد
ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ (کیسے دھوئیں؟):
صابن اور صاف پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں۔ اسے یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ “تکبیر” (اللہ اکبر) یا “ہیپی برتھ ڈے” کا گانا دو بار گائیں۔
- پانی سے تر کریں: ہاتھوں کو صاف پانی سے بھگوئیں۔
- صابن لگائیں: ہتھیلی پر صابن کا اچھا جھاگ بنائیں۔
- رگڑیں: ہتھیلیوں، انگلیوں کے درمیان، ناخنوں کے اندر اور انگوٹھے کو اچھی طرح رگڑیں۔
- صاف پانی سے دھوئیں: سارا جھاگ صاف پانی سے دھو لیں۔
- سکھائیں: صاف کپڑے یا ٹشو پیپر سے ہاتھ اچھی طرح سکھا لیں۔
اگر صابن اور پانی میسر نہ ہو تو؟
ایسے موقعوں پر الکحل بیسڈ سینیٹائزر (60% سے زیادہ الکحل والا) استعمال کریں۔ اچھی طرح ہاتھوں پر مل کر سکھا لیں۔
حوصلہ افزا پیغام
یہ عادت کوئی بڑا کام نہیں، مگر اس کے نتائج بہت بڑے ہیں۔ اپنے ہاتھوں کی صفائی سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے آس پاس کے سب لوگوں کی صحت کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ یہ سنت بھی ہے، عبادت بھی ہے، اور ایک اچھا شہری ہونے کا بھی تقاضا ہے۔ آج سے ہی عہد کریں کہ صحیح وقت پر اور صحیح طریقے سے ہاتھ دھونے کو اپنی روزانہ کی عادت بنا لیں گے۔
دعا:
یا اللہ! ہمیں پاکیزگی اختیار کرنے والا بنا، ہماری اس چھوٹی سی کوشش کو ہماری اور ہمارے معاشرے کی صحت کے لیے باعثِ برکت بنا۔ آمین!
Discover more from Rawallian Community CareConnect
Subscribe to get the latest posts sent to your email.









